دعا

جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے، میں سورۂ فاتحہ سے متاثر رہا ہوں۔ اس کا لفظی مطلب ہے “کھولنے والا”۔ کہا جاتا ہے کہ اِس سورت کا فلسفہ قرآنِ مجید کے فکری نظریے کو کھولنے کی چابی ہے۔ معنی کے علاوہ، مجھے اس سورت کی مماثلتِ مصوتہ کی روانی پسند ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے کوئی آپ کے ذہن کو مستقل وقفوں کے بعد دلفریب “ای” کی ضرب لگا رہا ہو۔ یہ مختصر مگر جامع ہے؛ جیسے باریک بُنی ہوئی ریشم۔

اس کتاب کے آغاز میں مرقوم دعا کو سورۂ فاتحہ سے اخذ کیا گیا ہے۔ یہ حرف بہ حرف ترجمہ نہیں لیکن، اگر کہنے کی جسارت کروں تو، میں نے اسے ویسا ہی رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ، اجتماعی نقطۂ نظر سے، ہم راستے میں گم اور منتشر ہیں اور منزل تک رسائی کے لیے ہمیں شفاف کرنوں والے چراغ کی ضرورت ہے۔ میں دعا گو ہوں کہ وہ اپنے نور کے صدقے اس کتاب کو وہ چراغِ راہ بنائے کہ جس کی اس زمانے کو اشد ضرورت ہے۔

دعا

ہو  پناہ  منکرِ    تام     سے

جو ذمیم  ہے، جو   رجیم   ہے

شروع اُس حبیب کے نام سے

جو کریم ہے، جو    رحیم   ہے

تو  لئیقِ  حمدِ   خلوص    گیں

مرے  ربّ  و   خالقِ  عالمیں

تو  بڑا  رحیم   ہے   یا   متیں

تو   ہی   مالکِ   دمِ  یومِ  دیں

 ترے  آستاں  پہ   مری   جبیں

ہے  تری  مدد  کی طلب یہیں

مری عرض ہے مرے دلنشیں

  کہ مِری نگاہ  ہو  قبلہ بیں

ہوں ترے انعام کا  میں  رہیں

نہ  ہوں  میں  زَ فرقہٴ مشرکیں

وہ ہے جن پہ چشمکِ خشم گیں

وہ جو راستے میں ہیں گُم کہیں

آمیں

شفاف کرنوں والا چراغ


Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *