ہم سب با شعور ہیں اور اس قابل ہیں کہ اپنے اردگرد وقوع پذیر ہونے والے واقعات کو سمجھیں اور محسوس کریں۔ اپنے خاندان میں، خاندان سے باہر، اپنے گاوں میں، گلیوں میں اور اپنے کام کرنے کی جگہ پر؛ بسا اوقات ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ہمارے اردگرد کیا ہو رہا ہے۔ البتہ جوں جوں ہم مراتب کی سیڑھیاں چڑھتے جاتے ہیں، منظر دھندلا پڑ جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگوں کے لیے یہ امر غیر واضح ہو کہ ایک ملک میں یا بین الاقوامی سطح پر کیا ہو رہا ہے، کیوں ہو رہا ہے اور اس بابت کیا کیا جا سکتا ہے۔
انسانی نفسیات، خواہ انفرادی ہو یا اجتماعی، ہر سطح پر ایک جیسی ہوتی ہے۔ لوگوں کے چھوٹے یا بڑے گروہ کے اندرونی محرکات اور رویے تقریباً ایک سے ہوتے ہیں۔ حصۂ اول بعینہٖ مثل عوامل پر روشنی ڈالتا ہے اور یہ کوشش کرتا ہے کہ پیچیدہ مقامی اور بین الاقوامی امور کے اساسی محرکات کی تہہ تک اُن اوصاف کو بنیاد بنا کر پہنچا جا سکے جو سب کے لیے یکساں ہیں۔
حصۂ اول سے اقتباس
انفرادی طور پر اخلاقیات کا معیار اعلیٰ ہے۔ لیکن تہذیب جِبِلَّتاً بچّے کو کچل ڈالتی ہے، اُسے کھا جاتی ہے اور آگے کو بڑھ جاتی ہے، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ وہ جنگلیوں سے مختلف نہیں کیونکہ وہ خود سے مشابہ دوسری تہذیب کو مارتی اور اُس کا گوشت کھاتی ہے۔ یہ موجودہ نظامِ جہاں کی نظریاتی سرحد ہے۔ کچھ گز زمین کے حصول کے لیے اربوں نے لوٹ مار کی اور اربوں موت کے گھاٹ اُتر گئے۔ انسانیّت چند فُٹ سے آگے مُخلصانہ سوچ رکھنے کی صلاحیّت سے محروم ہے۔ اس کے باہر جو کچھ بھی ہے، خفی ہے۔ جمود کا شکار پانی ماحول کو پُر تَعَفُّن بنا رہا ہے اور کافی نقصان پہلے ہی ہو چکا ہے۔ تَعَصُّب جلد ختم نہیں ہوتا اور نہ ہی عدم برداشت آسانی سے گھٹ سکتا ہے۔ اے متَّحد دنیا کا مطلب سمجھنے سے قاصر انسان، تمہارا ذہن ابھی غیر جانبدار نہیں ہوا۔ معرفت حاصل کرو۔ ذاتی مفاد نے موجودہ نظامِ جہاں کو پراگندہ کر رکھا ہے؛ اِس جسم میں روح نہیں ہے۔ تم جذباتی ہستی ہو، کوئی مکانیکی ہستی نہیں اور اِسی لیےتمہیں ایک ایسے نظام کی اشد ضرورت ہے جس کے سینے میں دھڑکتا ہوا دل ہو۔ ایسا نظام جو خاندانی اقدار انتظامِ جہاں کے عین سینے میں شامل کر دے۔ یہی تو ہے نغمۂ نبض۔

اسلاف کے ساتھ کھیلنا