بیتِ بنوں

میرا تعلق بنوں سے ہے جو کہ پاکستان کے خیبر پختونخوا صوبے کے جنوب میں دریائے کرم کے کنارے پر واقع ایک چھوٹا سا شہر ہے۔ میری مادری زبان پشتو میں بانی کیر کا مطلب ہے “بنوں کا گھر”۔ میں نے حصۂ دوئم کو یہ نام اس لیے دیا ہے کیونکہ میں خود کو دنیا کا شہری تصور کرتا ہوں اور محسوس کرتا ہوں کہ یہ ساری دنیا میرا گھر ہے۔ اس لیے میں دنیا کے ساتھ اُتنا ہی مخلص ہوں جتنا اپنے گھر کے ساتھ۔

                  تزئینِ ارض کی  خوبصورتی کو سراہنے کے لیے سب سے اہم امر اس کی ہمہ گیر منظرکشی ہے۔ اسی صورت ہم اُس عظمت کو محسوس کر سکتے ہیں جس کی تقطیر آسمانوں سے ننھے سرخی مائل پھولوں تک ہوتی ہے۔  اِسی لیے لوگ پہاڑوں کی چوٹیوں پر جاتے ہیں  تا کہ زیر نظر وادیوں کے پرند چشم نظارے سے لطف اندوز ہو سکیں۔

            اسی طرح، ایک نظریاتی منظرنامے کو بہتر طور سے سمجھنے کے لیے سب سے اہم بات اُس کی ہمہ گیر منظر کشی ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص ارب پتی ہے جو زیابیطس کے مرض میں مبتلا ہے اور اس بیماری کی وجہ سے اُس کے دونوں نچلے اعضا کی قطع کاری کی جا چکی  ہے۔ اگر کوئی بتلائے کہ ارب پتی شخص کے پاس بہت زیادہ پیسے ہیں لیکن اس بات کا ذکر نہ کرے کہ بیماری کی وجہ سے اُس کے اعضا کی قطع کاری ہو چکی ہے تو ہم ایک نہایت اہم نقطہ نظر انداز کر دیں گے۔ اِجمالاً، اُس شخص کی نظریاتی تصویر نامکمل ہو گی۔

                  قومیں افراد کی مکبّر تصویریں ہیں۔ موجودہ درجہ بندی کے اصول انہیں جغرافیہ یا نظریہ یا اقتصاد کی بنیاد پر پرکھتے ہیں، پس، تصویر نامکمل ہوتی ہے۔ کوئی فہرست جو ہمیں بتاتی ہے کہ ایک ملک رقبے کے اعتبار سے بڑا یا چھوٹا ہے یا اُس کی مجموعی ملکی پیداوار زیادہ یا کم ہے ہمیں اس کی فلاح و بہبود کے بارے میں نامکمل معلومات فراہم کرتی ہے۔  بانی کیر کی درجہ بندی جغرافیہ، نظریہ اور اقتصاد کو ایسے طور پر باہم پیوست کرتی ہے کہ محض ایک جدول پر نظر ڈالنے سےاس ملک کے فلاح و بہبود کے بارے میں ایک ہمہ گیر تصویر ابھرتی ہے۔

            بانی کیر  ہمیں ممالک کی درجہ بندی کے لیے غیر جانبدار  اور ہمہ گیر اصول فراہم کرتا ہے۔ بغیر اس علم کے یہ پتا نہیں لگ سکتا کہ کون، کون اور کیا، کیا ہے۔

ابھرتا سورج