میں عموماً اپنی ہمکار کے ساتھ جبریت اور آزادئ ارادہ کے فلسفیانہ مخمصے کے بارے میں بحث کیا کرتا تھا۔ اس نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ہمارے ایک ہم جماعت کو ہمیشہ مرغوب عہدوں پر تعینات کیا جاتا ہے جبکہ وہ، جو کہ افسرانِ بالا کی عنایات سے محروم ہوتے ہیں، بالعموم خالی ہاتھ ہی رہ جاتے ہیں۔ میں کہا کرتا تھا کہ ہر چیز پہلے سے طے شدہ ہے۔ اگر ہم یہاں بیٹھ کر چائے پیتے ہوئے محوِ گفتگو ہیں تو محض اس لیے کہ یہ پہلے سے ہی لوحِ محفوظ میں لکھا جا چکا تھا۔ وہ اس دلیل سے قائل نہ ہوتی۔ اس کے خیال میں اس کا مطلب تھا کہ ہم تمام تر کوشش ترک کر دیں اور خود کو مکمل طور پر تقدیر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں۔ میں جواباً کہتا کہ یہ سوال تو ہر دور میں پوچھا گیا ہے۔ ہم تمام دن بیٹھ کر جبریت اور آزادئ ارادہ کے فوائد و نقصانات کے بارے میں بحث کر سکتے ہیں لیکن اس کا نتیجہ کچھ نہ نکلے گا۔ بنیادی طور پر یہ منطق سے زیادہ عقیدے کا معاملہ ہے۔ میں اسے کہتا، “اگر میں صحیح ہوں تو تم اپنے گھر جا کر چین کی نیند سو سکتی ہو لیکن اگر تم صحیح ہو تو آج دن کا حاصل سراسر نا امیدی کے سوا اور کچھ نہ ہو گا”۔ وہ جواب دیتی، “اگر تم صحیح ہو تو زندگی، جیسی ہم محسوس کرتے ہیں، ماند پڑ جائے گی لیکن اگر میں صحیح ہوں تو زندگی کی حرارت برقرار رہے گی”۔ ہم تمام دن دائروں میں چکر کاٹتے رہتے لیکن یہ، جیسے کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے، لا حاصل ہوتا۔
میں سمجھتا ہوں کہ نہ تو یہ ممکن ہے اور نہ ہی ضروری کہ ہمیں مذہب میں منطقِ کامل مل جائے۔ مذہب اندھے اعتقاد کا نام ہے اس لیے بغیر جستِ ایمانی کے بات نہیں بنتی۔ یعنی، تسلی بخش منطقی وضاحت کے بغیر انسان کو ایک آدرش پہ پختہ یقین ہونا چاہیے۔ آپ اسے “جوہرِ نامعلوم” کہہ سکتے ہیں۔ یہی، منطق کی قدرے کمی اور ایمان کی زیادتی مذہب کو تقدس عطا کرتی ہے۔ لفظ “قدرے” اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ مذہب مکملاً تہی از منطق نہیں ہو سکتا۔ یہ موجود ہوتا ہے، کامل صورت میں نہیں، لیکن بہرحال موجود ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر آپ پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے ہوں اور کچھ بھی نہ کریں تو یہ بے عملی ہے۔ اگر آپ پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے ہوں اور ایک کنکر نیچے کی سمت پھینک دیں اور یہ امر قدرت پہ چھوڑ دیں کہ وہ بیخ تک پہنچتا ہے یا نہیں، تو یہ سعیِ غیر فعال ہے۔ فصیحاً، کنکر پھینکیں اور اسے از خود حرکت میں آنے دیں۔ اگر اس کی قسمت میں بیخ تک پہنچنا لکھا ہو گا تو وہ پہنچ کر رہے گا اور اگر وہ کہیں پھنس گیا تو کوئی اور پتھر کسی دوسری سمت کوبساعتِ دیگر پھینک دیں۔ اور اگر آپ پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے ہوں اور ایک کنکر نیچے کی سمت پھینک دیں اور جب وہ کہیں پھنس جائے تو آپ اس مقام تک نیچے اتریں، اسے اٹھائیں اور دوبارہ پھینک دیں ۔ اور اگر وہ دوبارہ پھنس جائے تو آپ بار بار یہی عمل دہراتے رہیں یہاں تک کہ وہ بیخ تک پہنچ جائے، تو یہ سعیِ فعال ہے ۔
بے عملی اور سعیِ غیر فعال دونوں ہی غیر مرغوب ہو سکتے ہیں۔ کچھ کر گزریں، اور وقت از خود آپ کو بتائے گا کہ آپ کی کاوش قابلِ قدر تھی یا نہیں۔ قدرت آپ کو رفتہ رفتہ سکھا دے گی کہ کیسے تھامے رکھنا ہے اور کب چھوڑ دینا ہے_ہر امر کا وقت مقرر ہے۔ جب آپ سعیِ غیر فعال کے فن میں مہارت حاصل کر لیں تو کوئی بھی آپ کو مات نہیں دے سکتا کیونکہ قدرت بالطبع آپ کے حق میں کارفرما ہو جائے گی۔
یہ نہیں کہ موج سوار اپنے تختے پر بے سدھ لیٹ جاتا ہے۔ بدن کی ہلکی سی جنبش اسے دیو ہیکل موج کی زورآوری کے ساتھ ہم آہنگ کر دیتی ہے۔ اگر وہ موج کے بر خلاف جائے گا تو اسے کچھ بھی حاصل نہ ہو گا۔
بے عملی سے ترقی حاصل نہیں ہو سکتی، جبریت سعیِ غیرفعال کی نمایندہ ہے جبکہ آزادئ ارادہ سعیِ فعال کی نمایندہ ہے۔ اس دنیا میں کامل آزادئ ارادہ ممکن نہیں۔ ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہ سوچنا کہ تم قدرت کے چنگل سے چھوٹ سکتے ہو۔ کیا تم اپنی موت کو دھوکا دے سکتے ہو؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ننھے موسیٰ علیہ السلام کو ان کی ماں نے نازک سی ٹوکری میں لٹا کر دریائے نیل کے کنارے پانی کے سپرد کر دیا۔
Leave a Reply