قندیل کا خلاصہ

دنیا جغرافیائی لحاظ سے اکائی ہے۔ اس لیے اسے لگ بھگ دو سو ٹکڑوں (ملکوں) میں تقسیم کر دینا اس کی فطری ہیئت کو درہم برہم کر دینے کے مترادف ہے۔ اس غیر فطری تقسیم، ذیلی تقسیم اور ذیلی در ذیلی تقسیم نے جہاں اور ساکنانِ جہاں کے جوہر  و صلاحیت کو بدرجہا کم کر دیا ہے۔

تنوّع ایک مثبت وصف ہے۔ لیکن اگر یہ اس حد تک بڑھ جائے کہ جغرافیے ہی کو نقصان پہنچا دے تو اخذ کیا جا سکتا ہے کہ نظریہ اور جغرافیہ باہم مناسبت نہیں رکھتے۔ ایک طویل عرصے میں تنازعات اس حد تک بڑھ گئے کہ انہوں نے بالآخر جغرافیے کو نقصان پہنچا دیا۔ ہم سب انسان ہیں، لیکن باوجود اس کے ہمارا یقین اس حد تک منقسم ہو چکا ہے کہ مفاہمت کی کوئی بھی راہ سجھائی نہیں دیتی۔ ہمارا مجموعی نظریہ کمزور ہے اور کوئی تسلُّط نہیں جو ہمیں اکائی کی طرح  ترقّی پر آمادہ کرے۔ اس ذہنی بے آہنگی کا حاصل سراسر ناامیدی ہے۔

دنیا ایک لمبی ریل گاڑی ہے جس میں لگ بھگ دو سو بوگیاں ہیں۔ لیکن اس ریل گاڑی کے آگے کوئی انجن نہیں اور بوگیوں کا حجم یکساں نہیں۔ علاوہ ازیں، ہر بوگی کا انجن انفرادی ہے جو ایک خاص اسپی طاقت رکھتا ہے اور بوگی کو آگے یا پیچھے کی سمت دھکیل سکتا ہے۔ ان حالات میں یہ ریل گاڑی کبھی بھی اپنی منزلِ مقصود تک نہیں پہنچ سکتی۔ یہ ایسا ہے کہ جیسے ایک جسم میں دو سو دماغ ہوں، پس، یہ نظام قدرت سے کسی بھی قسم کی مناسبت نہیں رکھتا۔

آیا ایسا نظام کہ جس میں سب سما جائیں ممکن ہے یا تشدد ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر دور میں پوچھا گیا ہے۔

بقا اور آگے بڑھنے کے واسطے ہمارے نظریے کے لیے ضرور ہے کہ وہ قوانینِ قدرت سے مناسبت رکھتا ہو۔ قوانین برائے انصرامِ نظریہ ایسے طور پر وضع کرنے چاہییں کہ وہ قوانین برائے انصرامِ قدرت کے ماتحت ہوں کیونکہ ہم قدرت کو بدلنے کی سکت نہیں رکھتے۔ ہر اس نظریے کا انجام سراسر تباہی ہے جو ہم ترازِ قدرت نہیں۔

موجودہ ذہنیّت ہمیں اس مقام سے آگے لے جانے سے قاصر ہے۔ اِس لیے اِس سرحد کو عبور کرنے اور آگے بڑھنے کے لیے ایک نئے نظامِ حکومت کی اشد ضرورت ہے۔ یہ کتاب موجودہ نظامِ جہاں کے محرکات اور کوتاہیوں سے متعلق ہے۔ علاوہ ازیں اس بابت بھی بحث کی گئی ہے کہ ان کوتاہیوں پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے اور مستقبل کا لائحۂ عمل کیا ہو گا۔

                                حصۂ اول دنیا میں کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے سے متعلق ہے۔ مقامی سے بین الاقوامی سطح تک باریک بینی سے ان محرکات کے بابت بحث کی گئی ہے جو ہمارے اردگرد رونما ہونے والے واقعات کا باعث ہیں۔ حصۂ دوئم ممالک کی غیر جانبدار اور ہمہ گیر درجہ بندی کی تخلیق سے متعلق ہے تا کہ اس بات کا پتا لگایا جا سکے کہ ہم کس چیز کا جائزہ لے رہے ہیں۔ مزید برآں، یہ درجہ بندی مستقبل میں سب کی بجا آوری کے لیے دساتیر وضع کرنے میں ہماری مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ حصۂ سوئم ہمیں بتاتا ہے کہ موجودہ نظام ہائے حکومت  فرسودہ ہیں اس لیے ایک نئے نظامِ حکومت کی تخلیق کی اشد ضرورت ہے۔ یہ ایک نئے نظام (جدیدیت) کی تشکیل اور اس میں شامل پیچیدہ تدابیر کی وضاحت کرتا ہے۔ حصۂ چہارم مقامی سطح پر جدیدیت کے نفاذ اور حصۂ پنجم بین الاقوامی سطح پر جدیدیت کے نفاذ کے بارے میں ہے۔ 

باہم یہ نغمۂ نبض ترتیب دیتے ہیں۔ اس کتاب کا مقصد بین الاقوامی سطح پر  اقوام  کے سرد اور بے حس رویے میں ہم دردی اور ہم دلی کی کیفیت پیدا کرنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ امید کی گئی ہے کہ نغمۂ نبض موجودہ نظامِ جہاں کے بے جان جسم میں زندگی کی روح پھونک دے گا۔

قندیل